close
مندرجات کا رخ کریں

ویکیپیڈیا:منتخب مضامین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

ویکیپیڈیا کے منتخب مضامین

یہ ستارہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ منسلک مواد ویکیپیڈیا کے منتخب مواد میں شامل ہے۔
یہ ستارہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ منسلک مواد ویکیپیڈیا کے منتخب مواد میں شامل ہے۔

منتخب مضامین ویکیپیڈیا کے بہترین مضامین کو کہا جاتا ہے، جیسا کہ انداز مقالات میں واضح کیا گیا ہے۔ اس سے قبل کہ مضمون کو اس فہرست میں شامل کیا جائے، مضامین پر نظرِ ثانی کے لیے امیدوار برائے منتخب مضمون میں شاملِ فہرست کیا جاتا ہے تاکہ مضمون کی صحت، غیر جانبداری، جامعیت اور انداز مقالات کی جانچ منتخب مضون کے معیار کے مطابق کی جاسکے۔ فی الوقت اردو ویکیپیڈیا پر اڑھائی لاکھ سے زائد مضامین میں سے 70 منتخب مضامین موجود ہیں۔ جو مضامین منتخب مضمون کو درکار صفات کے حامل نہیں ہوتے، اُن کو امیدوار برائے منتخب مضمون کی فہرست سے نکال دیا جاتا ہے تاکہ اُن میں مطلوبہ بہتری پیدا کی جاسکے اور اُس کے بعد جب وہ تمام تر خوبیوں سے آراستہ و پیراستہ ہو جاتی ہیں تو انھیں دوبارہ امیدوار برائے منتخب مضمون کی فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ مضمون کے بائیں جانب بالائی حصے پر موجود کانسی کا یہ چھوٹا سا ستارہ (یہ ستارہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ منسلک مواد ویکیپیڈیا کے منتخب مواد میں شامل ہے۔۔) اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ منسلک مواد ویکیپیڈیا کے منتخب مواد میں شامل ہے۔مزید برآں یکہ اگر کوئی مضمون بیک وقت کئی زبانوں میں منتخب مضمون کی حیثیت حاصل کرچکا ہے تو اسی طرح کا چھوٹا ستارہ دیگر زبانوں کے آن لائن پر دائیں جانب اُس زبان کے نام کے ساتھ نظر آئے گا۔

  • مضمون کے منتخب ہونے پر {{امیدوار برائے منتخب مضمون}} کا سانچہ ہٹا کر {{منتخب مقالہ}} سانچہ کا اندراج کر دیا جائے۔

منتخب مواد:

آلات منتخب مضمون:


مجموعات

·فنون، فنِ تعمیر اور آثارِ قدیمہ ·اعزاز، سجاوٹ اور امتیازیات ·حیاتیات ·تجارت، معیشت اور مالیات ·کیمیاء اور معدنیات ·کمپیوٹر ·ثقافت و سماج ·تعلیم ·انجینئری اور ٹیکنالوجی ·کھانا اور پینا ·جغرافیہ اور مقامات ·ارضیات، ارضی طبیعیات اور موسمیات ·صحت و طب ·تاریخ ·زبان و لسانیات ·قانون ·ادب اور فن کدہ ·ریاضیات ·شامہ میان (میڈیا) ·موسیقی ·فلسفہء اور نفسیات ·طبیعیات و فلکیات ·سیاسیات و حکومت ·مذہب، عقیدہ اور ضعف الاعتقاد ·شاہی، شریف اور حسب نسب ·کھیل اور تعمیری سرگرمیاں ·نقل و حمل ·بصری کھیل ·جنگ و جدل

اٹکل سے کوئی بھی منتخب صفحہ دیکھیں

فنون، فنِ تعمیر اور آثارِ قدیمہ

حیاتیات

ثقافت و سماج

جغرافیہ اور مقامات

ارضیات، ارضی طبیعیات اور موسمیات

تاریخ

زبان و لسانیات

ادب اور فن کدہ

طبیعیات و فلکیات

سیاسیات و حکومت

مذہب، عقیدہ اور ضعف الاعتقاد

شاہی، شریف اور حسب نسب

کھیل اور تعمیری سرگرمیاں

بصری کھیل

جنگ و جدل

گذشتہ کل کا منتخب مضمون

BERJAYA

عمان اردن کا دار الحکومت اور اس کا سب سے بڑا شہر ہونے کے ساتھ ساتھ ملک کا اقتصادی، سیاسی اور ثقافتی مرکز بھی ہے۔ شمال وسطی اردن میں واقع عمان شہر محافظہ عمان کا انتظامی مرکز ہے۔ شہر کی آبادی 4،007،526 اور رقبہ 1،680 مربع کلومیٹر (648.7 مربع میل) ہے۔ آج عمان کو جدید ترین عرب شہروں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ یہ خطے میں خاص طور پر عرب اور یورپی سیاحوں کے لیے ایک اہم سیاحتی مقام ہے۔

عمان میں آبادی کے ابتدائی شواہد نئے سنگی دور کے مقام عین غزال سے ملے ہیں جہاں سے قدیم ترین انسانی ڈھانچے جو 7250 ق م کے ہیں دریافت کیے گئے ہیں۔ آہنی دور میں شہر کو عمون کہا جاتا تھا جو مملکت عمون کا دار الحکومت تھا۔ رومی دور میں اس کا نام فلاڈیلفیا تھا اور آخر کار اسلامی دور اسے عمان کا نام دیا گیا۔ قرون وسطی اور مابعد قرون وسطی میں یہ ایک غیر آباد شہر تھا۔ جدید عمان کی تاریخ انیسویں صدی میں ادیگی تارکین وطن کو سلطنت عثمانیہ کی جانب سے وہاں 1867ء میں آبادکاری سے شروع ہوتی ہے۔ پہلی بلدیاتی کونسل کا قیام 1909ء میں عمل میں آیا۔

1921ء میں اردن کا دار الحکومت بننے کے بعد عمان نے تیزی سے ترقی کی۔ شہر نے پناہ گزینوں کی کئی مسلسل لہروں کو بھی سہارا دیا جس میں 1948ء اور 1967ء میں فلسطین سے، 1990ء اور 2003ء میں عراق سے اور 2011ء کے بعد سے سوریہ کے پناہ گزین شامل ہیں۔ ابتدا میں یہ شہر سات پہاڑیوں پر بسا تھا اور اب یہ 19 پہاڑیوں پر پھیل چکا ہے۔ اس کے 27 اضلاع ہیں۔

آج کا منتخب مضمون

BERJAYA

اربعین یا چہلم یا چالیسواں ایک شیعی مذہبی تہوار ہے۔ اس تہوار کو ہر سال یوم عاشورہ کے چالیس دن بعد منایا جاتا ہے۔ اس تہوار کا مقصد پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے حسین ابن علی کی شہادت کی یاد منانا ہے جو ماہ صفر کی بیسویں تاریخ کو منایا جاتا ہے۔ حسین ابن علی اور ان کے 72 رفقا 61ھ (680ء) میں کربلا کی جنگ میں یزید بن معاویہ کی فوج کے ہاتھوں شہید ہوئے تھے۔ اربعین یا چالیسواں سے مراد عام لوگ جو اپنے عزیز کے وفات کے چالیسویں دن سوگ اور خیرات کے ذریعے یاد مناتے ہیں، بھی ہے۔ اربعین کے دن دنیا کے سب سے بڑے انسانی اجتماع کا انعقاد بھی ہوتا ہے اور ایک اندازے کے مطابق اس دن پانچ کروڑ لوگ کربلا، عراق میں زیارت اربعین پڑھنے اور یاد شہداء میں ماتم کرنے پہنچتے ہیں۔

کل آنے والا منتخب مضمون

BERJAYA

اشکنازی جنھیں اشکنازی یہود بھی کہا جاتا ہے ایسے یہود ہیں جو رومی عہد میں یورپ اور جرمنی کی طرف ہجرت کر گئے تھے۔ ان علاقوں میں بھی ان لوگوں نے لکھنے پڑھنے اور بودوباش میں عبرانی روایات کو قائم رکھا۔ ان کو مسیحی بادشاہوں کی طرف سے نفرت کا سامنا بھی تھا جو ان کی ایک جگہ سے دوسری جگہ ہجرت کا سبب بنتا تھا۔ اسی لیے یہ لوگ اٹھارہویں صدی کے آخر تک معاشی طور پر مستحکم نہ ہو سکے۔

اشکنازی یہود تارکین وطن کی آبادی جو یہودیوں کی تارکین وطن کی ایک الگ اور یکجا برادری کے طور پر مقدس رومی سلطنت کے پہلے ہزاریہ کے اختتام کے وقت وقوع پزیر ہوئی۔ ان تارکین وطن اشکنازی یہودیوں کی روایتی زبان یدیش مختلف بولیوں پر مشتمل ہے۔ اشکنازی تمام تر وسطی اور مشرقی یورپ میں  پھیلے اور وہاں برادریاں قائم کیں جو قرون وسطی سے لے کر حالیہ دنوں تک ان کے بسنے کے بنیادی علاقے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان علاقوں میں ان بے وطنوں کی اپنی ایک علاقائی اور تارک وطن اشکنازی تشخص پروان چڑھنے لگا۔ قرون وسطی کے اخر میں اشکنازی آبادی کا زیادہ تر حصہ مسلسل جرمن علاقوں سے باہر پولستان اور لتھووینیا میں (بشمول موجودہ  بیلاروس اور یوکرائن) مشرقی یورپ کی طرف منتقل ہوتا چلا گیا۔ اٹھارہویں صدی کے آخر اور انیسویں صدی کے اوائل تک جو یہود جرمنی ہی میں رہے یا واپس جرمنی آئے ان کی  ثقافتی اقدار نے دھارا بدلا۔ حثکالا (یہودی نشاة ثانیہ) کے زیر اثر، جدوجہد آزادی، دانشورانہ اور ثقافتی بدلاؤ کے لیے انھوں  نے آہستہ آہستہ یدش زبان کا استعمال ترک کر دیا اور اپنی مذہبی زندگی اور ثقافتی تشخص کی نئی جہتوں کو پروان چڑھانے لگے۔" یورپ میں  قیام کے دوران میں اشکنازیوں نے یورپی ثقافت میں اپنا اہم حصہ ڈالا اور فلسفہ، ادب، آرٹ، موسیقی اور سائنس کے تمام شعبوں میں  قابل ذکر اور غیر متناسب اضافہ کیا۔" (ایرک ہوبسبام) – ہولوکاسٹ (مرگ انبوہ)، یعنی یہودی نسل کشی اور دوسری عالمی جنگ کے  دوران تقریباً ساٹھ لاکھ یہود کے بڑے پیمانے پر قتل عام نے اشکنازی تارکین وطن کی ثقافت اور تقریباً ہر اشکنازی یہودی خاندان کو متاثر کیا۔

پرسوں آنے والا منتخب مضمون

فیفا نے 1930ء میں پہلا فیفا عالمی کپ مردوں کی قومی ٹیموں کے درمیاں یوراگوئے میں منعقد کروایا۔ اس کی میزبانی کے لیے یوراگوئے، سپین، نیدرلینڈز، اٹلی اور سویڈن نے بولی لگائی، لیکن فیفا نے یوراگوئے کی بولی قبول کی اور اس طرح یوراگوئے پہلے عالمی کپ کی میزبانی کا اعزاز حاصل کر سکا۔ پہلے عالمی کپ میں صرف تیرہ ممالک کی قومی ٹیمیں شریک ہوہیں۔ جن کو شامل ہونے کے لیے کوئی مقابلہ نہیں کرنا پڑا، بلکہ پہلے عالمی کپ میں کسی بھی ملک کی قومی ٹیم شرکت کی اہل تھی، دنیا بھر کی ٹیموں کو دعوت نامے ارسال کیے گئے، مگر طویل سفر اور سفری اخراجات کی وجہ سے صرف تیرہ ممالک کی ہی ٹیمیں شامل ہوہیں، ان کو چار گروپوں میں تقسیم کیا گیا، پہلا گروپ چار ٹیموں پر اور باقی تین گروپوں میں تین تین ٹیمیں شامل تھیں، ہر گروپ کی ٹیم نے اپنے گروپ کی ہر ہر ٹیم سے ایک ایک مقابلہ کرنا تھا، اس طرح پہلے مرحلہ میں نو ٹیمیں باہر ہو گئیں، دوسرا مرحلہ سیمی فائنل کا تھا، پہلے عالمی کپ میں تیسرے اور چوتھے درجہ کے لیے مقابلے منعقد نہیں کیے گئے۔ یوراگوئے میں منعقد ہونے والے 1930 کے فیفاعالمی کپ کے فائنل میں میزبان یوراگوئے نے ارجنٹائن کو دو کے مقابلے میں چار گول سے شکست دے کر پہلے فیفا عالمی کپ کا فاتح بننے کا اعزاز حاصل کیا ۔

اٹلی، سویڈن، نیدرلینڈز، سپین اور یوراگوئے نے پہلے عالمی فٹ بال کپ کی میزبانی کے لیے درخواست پیش کیں۔ اس وقت یوراگوئے فٹ بال اولمپکس کا فاتح تھا، بولی میں ایک نیا فٹ بال کا میدان (stadium) بنانے کا اعلان کیا گيا اور ساتھ میں یہ بھی کہا گیا کہ اختتام پر ہونے والی عالمی کپ کی آمدنی سے، شریک ٹیموں کا شرکت پر اٹھنے والا خرچ واپس کیا جائے گا۔ اس طرح یوراگوئے نے ایک اچھی بولی سے پہلے فیفا عالمی کپ کی میزبانی کا اعزاز حاصل کر لیا۔